Delivery drones cheer shoppers, annoy neighbors, scare dogs Robyn McIntyre, who lives on the outskirts of Australia’s capital, was in her family room a few months ago when she thought she heard a “chain saw gone ballistic.” via FOX NEWS https://fxn.ws/2QS6gwZ
ٹیپ نامی اس آلے میں کی بورڈ کی طرح بٹن نہیں ہوتے بلکہ پانچ انگوٹھیاں ہوتی ہیں جوباہمی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو کر آزادانہ انداز میں ٹائپنگ کا عمل سرانجام دیتی ہیں، اس آلے کو انگلیوں میں پہن کر آپ کسی بھی سطح پر ٹائپنگ کے ساتھ ساتھ ماؤس کو بھی استعمال کرسکتے ہیں۔اگر کوئی شخص سفر میں کی پیڈ یا کی بورڈ کی وجہ سے تحریر کرنے میں دقت محسوس کرتا ہے تو وہ بس اس آلے کے ذریعے اپنے پاؤں، ٹھوس سطح یا ٹیبل پر انگلیوں سے ای میل، مضمون، پیغامات تحریر کرسکتا ہے۔یہ ڈیوائس سمارٹ فونز، کمپیوٹرز، سمارٹ واچ اور لیپ ٹاپ کے ساتھ بلوٹوتھ سے منسلک ہوسکتی ہے جبکہ چارج ایبل بیٹری کی خاصیت کی وجہ سے اسے باآسانی ہر جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ اس کی قیمت صرف 129 ڈالر ہے۔ from Din News http://ift.tt/2kfIETL
ایسٹونیا میں زندگی کے تمام معاملات خواتین کے سنبھالنے کی وجہ یہ نہیں کہ ان خواتین کو مردوں سے کوئی پرخاش ہے بلکہ مہینے کے آخر میں علاقے کے تمام مرد ماہی گیری کے لیے اپنے گھروں سے دور چلے جاتے ہیں۔ مردوں کے جانے کے بعد خواتین گاؤں کا تمام نظم و نسق سنبھالتی ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کی خواتین کئی صدیوں سے یہ کام انجام دے رہی ہیں، ان امور میں بچوں کو سنبھالنا، کھانا پکانا، کھیتی باڑی، سماجی معاملات کی انجام دہی اور دیگر شامل ہیں۔ اس جزیرے کا نام کہنو ہے اور یہاں موجود آبادی کی سربراہ کا نام مارے میٹاس ہے ،،،میٹاس کے مطابق گاؤں کے مرد علاقے سے دور رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کی خواتین مضبوط ، بااثر اور آزاد ہیں۔ کہنو ثقافت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں خواتین روزمرہ زندگی میں روایتی لباس پہنتی ہیں، میٹاس کے مطابق جدید ترقی کے باوجود قدیم ثقافت و روایات کا باقی رہ جانا کسی معجزے سے کم نہیں اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے فکرمند رہتی ہیں۔اس تہذیب کو اقوام متحدہ کے سائنسی، علمی و ثقافتی ادارے یونیسکو نے تاریخ و تمدن کا ایک شاہکار قرار دیا ہے۔ from Din News http://ift.tt/2...
Comments
Post a Comment